اشاعتیں

کردار سازی اور ہماری قوم

تعصب کی فضا میں طعنہ کردار کیا دیتا۔ منافق دوستوں کے ہاتھ میں تلوار ا بھی منزل کا تعین نہیں ہوا تھا کہ ہم قوم پرستی، لسانی مسائل اور  مخلتف مذہبی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ وقت کیساتھ ساتھ یہ تقسیم ناصرف مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی بلکہ اس کی گہرائی میں بھی وقتی لُٹیروں اور سیاسی شعبدہ بازوں نے بھر پور کردار ادا کیا ، اس پر ستم ظریفی کہ مذہب کا علم رکھنے والے حضرات بھی اس کشتی کو کنارے پر نا لا سکے بلکہ جتنے چھید وہ اس کشتی میں کر سکتے تھے حسب استطاعت کئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔  لہذا جو وقت قومی کردار سازی کا تھا ، وہ آپس کے جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اب قوم اس نہج پر پہنچ گئی ہے ، جہاں انصاف ، انسانیت ، مذہبی رواداری ، قومی ہم آہنگی ، قومی کردار ، سچائی اور اخلاقیات جیسی باتیں ناممکنات میں سے ایک نظر آتی ہیں۔ ساری قوم مسیحا کی منتظر ہے جو دنوں میں ملک اور قوم کے حالات بدل دے ، لیکن قوم اپنے اندر موجود زہریلے طور طریقے اور منفی کردار کو بدلنے پر تیار نہیں۔۔۔۔۔ ہر بحران کی ذمہ داری کسی نا کسی پر ڈال کر بری الذمہ ہونا قوم اور قوم کے حکمرانوں نے احسن طریق سے سیکھ لیا ہے پچھلی سات دیائیوں سے خود...

تیسرا کندھا

بحثیت قوم ہم ہمیشہ اپنی ناکامیوں پر بیرونی سازش ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کرتے آئیں ہیں۔ ہم نے کبھی اپنی تاریخ کو سیدھا کرنے اور اس میں شامل جھوٹ ، فریب اور دھوکے کو تاریخ سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہم ہمیشہ تاریخ کو اپنے ماضی کو ایک خاص عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ ایسی عینک جو ہمیں اپنے کردار پر لگے داغ نہیں دکھاتی ، جو ہمیں اپنی غلطیاں اور کم ظرفیاں نہیں دکھاتی، جو یہ بھی نہیں دکھا پاتی کہ ہمیں باہر کے غدار نے کبھی اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ہمارے اندر موجود غداروں نے پہنچایا ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنا ماضی شاندار ،کامیابیوں اور کامرانیوں سے بھر پور نظر آتا ہے۔ہمیں ہمیشہ یہی نظر آیا ہے کہ ہمارے اسلاف نے عدل و انصاف کے جھنڈے گاڑے ہوئے تھے ، تعلیم دوست تھے ایک سے ایک جدید درس گاہ کے مورث اعلیٰ ہمارے اجداد ہی تھے۔   اور تو اور جھوٹ ، فریب ، دھوکہ دہی ، ملاوٹ، جعل سازی ، کینہ پروری، منافع خوری ،سود خوری، اقربا پروری، ظلم اور ناانصافی جیسے عناصر تو ہمارے اندر زبردستی کسی بیرونی طاقت نے شامل کردئے ہیں ورنہ ہم، تو دودھ سے دھلے ہوئے تھے۔ قوم کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے تو علامہ اقبال کو یہ دُع...

ہمیں کسی بے ایمان کی تلاش ہے۔

ایسا ممکن ہے کہ ہم بحیثت قوم حد سے زیادہ ایمان دار ہوں اور دوسرے اپنی بد دیانیتی کی وجہ سے ہمیں مشکوک اور بد کردار تصور کرتے ہوں۔ لیکن ہمیں اس سے کیا لینا دینا ؟ ہم دوسروں کی سوچ کے ذمہ دار تھوڑی ہیں اور نا ہم نے سب کی اصلاح کا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے۔  اب یہ تو کاروبار کا اُصول ہے کے جب چیز کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ بھڑ جاتی ہے تو اُسکی قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہی معاملہ کررونا وائرس کے بعد ہمارے یہاں بھی دیکھنے میں آیا۔ اب اس میں تو کسی مافیا کا ہاتھ نہیں کہ ماسک کے پیچھے ایک ساتھ ساری قوم پڑ گئی جسیے ماسک پہننا کوئی اہم اسلامی رکن بن گیا ہوں ۔ بھائی تھوڑا صبر ہی کرلیتا ہے بندہ ۔پھر سینیٹائیزر کا بحران آگیا ، یکدم تو ایسا لگا کی ساری قوم نے ایک ساتھ ہی ہاتھ دھونے کا ارادہ کر لیا ہے۔ کسی چیز کے ایسے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ نا چاہتے ہوئے بھی قیمت بڑھانی پڑ جاتی ہے۔  اس سے پہلے یہی رویہ چینی اور آٹے کے بحران میں نظر آیا ۔ لوگوں نے ضرورت سے زیادہ آٹا خرید کر مارکیٹ سے آٹا غائب کر دیا اور پھر خود ہی افواہ اُڑا دی کے آٹا نہیں مل رہا۔  بالکل یہی رویہ ابھی کررونا وائرس سے مت...

کررونا اور ہماری حکمت عملی

پاکستان کی عوام اتنا کررونا سے نہیں ڈر رہی جتنا وزیر اعظم صاحب کے تخمینہ سے ڈرے بیٹھی ہے۔ ہر تقریر ڈرنا نہیں لڑنا پر ختم ہوتی ہے ۔ ہماری عوام سے متعلق ہر کوئی جانتا ہے کہ لڑائی میں کبھی پیچھے نہیں ہٹی ، نا ہی مفاہمت سے کام لیا ہے ۔ بلکہ اکثر اوقات تو بغیر کسی وجہ کے بھی لڑائی لڑی جاتی ہے کیونکہ ہمارے لئے تو یہ خود کو تروتازہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ جہاں تک کررونا کی شدت کا تعلق ہے ، عوام اور خواص یہی سمجتے رہے کہ یہ معمولی سا کررونا ہمارے تقویٰ اور ایمان کے آگے گڑگڑا کر ہار مان جائے گا۔ اور کچھ صاحب ایمان حضرات تو اس کی موجودگی سے ہی انکاری تھے کیوں کے ان کا ایمان تھا کے ہمارا مدافعتی نظام کررونا سے زیادہ طاقتور ہے۔ ویسے تو کررونا سے متعلق جس قدر افواہیں منظر عام پر آئیں ہیں۔یہ بھی وجہ رہی کہ وزیر اعظم صاحب کے تخمینہ کے مطابق نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا اور قوم وزیر اعظم صاحب کی چتوقعات کے مطابق مر کر نہیں دکھا سکی۔ بلکہ جن کا اس سال مر جانے کا ارادہ تھا انھوں نے بھی اس کام سے توبہ کی آئندہ سال اس ارادہ کو عملی جامہ پہنانے کا خود سے وعدہ کیا۔کیونکہ ایک شریف آدمی کے لئے تو ایک آدھ وڈیو ہی کاف...