تیسرا کندھا
بحثیت قوم ہم ہمیشہ اپنی ناکامیوں پر بیرونی سازش ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کرتے آئیں ہیں۔
ہم نے کبھی اپنی تاریخ کو سیدھا کرنے اور اس میں شامل جھوٹ ، فریب اور دھوکے کو تاریخ سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہم ہمیشہ تاریخ کو اپنے ماضی کو ایک خاص عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ ایسی عینک جو ہمیں اپنے کردار پر لگے داغ نہیں دکھاتی ، جو ہمیں اپنی غلطیاں اور کم ظرفیاں نہیں دکھاتی، جو یہ بھی نہیں دکھا پاتی کہ ہمیں باہر کے غدار نے کبھی اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ہمارے اندر موجود غداروں نے پہنچایا ہے۔
ہمیں ہمیشہ اپنا ماضی شاندار ،کامیابیوں اور کامرانیوں سے بھر پور نظر آتا ہے۔ہمیں ہمیشہ یہی نظر آیا ہے کہ ہمارے اسلاف نے عدل و انصاف کے جھنڈے گاڑے ہوئے تھے ، تعلیم دوست تھے ایک سے ایک جدید درس گاہ کے مورث اعلیٰ ہمارے اجداد ہی تھے۔ اور تو اور جھوٹ ، فریب ، دھوکہ دہی ، ملاوٹ، جعل سازی ، کینہ پروری، منافع خوری ،سود خوری، اقربا پروری، ظلم اور ناانصافی جیسے عناصر تو ہمارے اندر زبردستی کسی بیرونی طاقت نے شامل کردئے ہیں ورنہ ہم، تو دودھ سے دھلے ہوئے تھے۔
قوم کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے تو علامہ اقبال کو یہ دُعا مانگنی پڑی
یارب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ،جو روح کو تڑپا دے
لیکن جو المیہ اقبال کے سامنے تھا وہ اب تک جوں کا توں ہے ہماری قوم اور امت مسلمہ کسی دوسرے کیساتھ تو مخلص ہونا دور کی بات ہے ۔ اپنے ساتھ بھی مخلصی دکھانے سے قاصر ہے ۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا تو نا بن اپنا تو بن
اگر ہم شدت پسندی پر آمادہ ہیں تو اغیار کی سازش ، اگر ہم مذہبی ،لسانی ، قومی اور علاقائی منافرت کا شکار ہیں تو اغیار کی سازش، اگر ہم میں اخوت ، قومی یکجہتی اور اتفاق کی کمی ہے تو اغیار کی سازش اور اگر ہم میں مذہب برائے نام اور خدا سے تعلق میں کمی ہے تو یہود اور نصاری کی سازش ہے۔
کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد تو ان سے ہو لعنت کرے شیطان پر
آخر کب تک اس دھوکے کا شکار رہیں گے اور تاریخی غلطیوں پر پردہ ڈال کر،ناکامیوں کو سازش کا نام دے کر ہم تیسرا کندھا تلاش کرتے رہیں گے۔ کب تک یہود اور نصاری کی سازش کا رونا رو کر ہم اپنی عملی اصلاح سے دور رہیں گے جس کے لئے سرسید احمد خان اور علامہ اقبال جیسے وجود ہمیں توجہ دلاتے رہیں ہیں۔
ہم بحثیت قوم کردار کے لحاظ سے انتہائی پستی اور ذلالت کا شکار ہو چکے ہیں، اور پستی بھی ایسی کے ہمیں اب اپنے یہ دھوکے اور جھوٹ بھی برے معلوم نہیں ہوتے ۔
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو
خدارا بحثیت قوم ہمیں سچ کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے نا کہ سازش کا نام دے کر اپنی غلطیوں کو تیسرے کندھے پر رکھ کر بری ذمہ ہو جائیں۔
ہماری غلطیوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن چند چیدہ چیدہ امور قابل ذکر ہیں۔
- امت مسلمہ کے فاتحین کا ایسا ذکر جو تاریخی حقائق کے منافی ہے
- امت مسلمہ کو قابل فخر بنانے کے لئے من گھڑت قصے کہانیاں
- تعلیمی میدان میں سوائے باتوں کے کوئی عملی کام نہیں
- پاکستان کی تاریخ میں قائد اعظم سے لیکر آج تک ہونے والے کسی اہم واقعہ اور حادثے پر کوئی حقائق پر مبنی رپورٹ نہیں۔
- بھارت کے ساتھ ہونے والے معرکوں میں سقوط ڈھاکہ اور دیگر امور میں سوائے جھوٹ کے کچھ پاس نہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں