کررونا اور ہماری حکمت عملی


پاکستان کی عوام اتنا کررونا سے نہیں ڈر رہی جتنا وزیر اعظم صاحب کے تخمینہ سے ڈرے بیٹھی ہے۔ ہر تقریر ڈرنا نہیں لڑنا پر ختم ہوتی ہے ۔ ہماری عوام سے متعلق ہر کوئی جانتا ہے کہ لڑائی میں کبھی پیچھے نہیں ہٹی ، نا ہی مفاہمت سے کام لیا ہے ۔ بلکہ اکثر اوقات تو بغیر کسی وجہ کے بھی لڑائی لڑی جاتی ہے کیونکہ ہمارے لئے تو یہ خود کو تروتازہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ جہاں تک کررونا کی شدت کا تعلق ہے ، عوام اور خواص یہی سمجتے رہے کہ یہ معمولی سا کررونا ہمارے تقویٰ اور ایمان کے آگے گڑگڑا کر ہار مان جائے گا۔ اور کچھ صاحب ایمان حضرات تو اس کی موجودگی سے ہی انکاری تھے کیوں کے ان کا ایمان تھا کے ہمارا مدافعتی نظام کررونا سے زیادہ طاقتور ہے۔
ویسے تو کررونا سے متعلق جس قدر افواہیں منظر عام پر آئیں ہیں۔یہ بھی وجہ رہی کہ وزیر اعظم صاحب کے تخمینہ کے مطابق نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا اور قوم وزیر اعظم صاحب کی چتوقعات کے مطابق مر کر نہیں دکھا سکی۔ بلکہ جن کا اس سال مر جانے کا ارادہ تھا انھوں نے بھی اس کام سے توبہ کی آئندہ سال اس ارادہ کو عملی جامہ پہنانے کا خود سے وعدہ کیا۔کیونکہ ایک شریف آدمی کے لئے تو ایک آدھ وڈیو ہی کافی تھی کررونا سے مرنے والے افراد کے جنازے کی اور یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک وڈیو منظر پر آئی جس سے کمزور دل افراد میت کی ایسی بے حرمتی دیکھ کرہی مرنے سے بھاگ کھڑے ہوئے اور وزیر اعظم صاحب کی مایوسی ختم نا ہو سکی۔ 
کسی خلائی مخلوق کی طرح کا لباس زیب تن کیے کچھ افراد کئی فٹ گہرے گھڑے میں جس طرح میت کو پھینکنے کا عمل انجام دیتے ہیں اُسے دیکھنے کے بعد تو کررونا کا شکار ہونے والے اپنے واثوں کو یہی وصیت کر رہے کہ اللہ کا واسطہ ہمیں ہسپتال نا لیکر جانا۔
ہسپتال اور ڈاکٹرز نا جانے کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ روز ایک عدد نوٹس ہسپتال سے باہر ہاوس فُل کا لگا دیتے ہیں ۔ ادھر وزیر اعظم کا تخمینہ پورا نہیں ہو رہا اور ہاوس فُل کے باوجود مطلوبہ اموات نہیں مل رہی ہیں۔ جب کہ لاک ڈاون اور احتیاط کا سارا ذمہ عوام کے سر ڈال دیا گیا ہے۔ اور یہ کون نہیں جانتا کہ پاکستانی عوام نے کبھی بھی کسی بھی معاملہ پر احتیاظ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ قوم ہمیشہ عجلت اور جلد بازی میں نتائج اخذ کرنے کی عادی رہی ہے۔ اور کسی بھی حادثہ کی صورت میں صرف چند دن ہی بڑی مشکل سے افسوس کر پاتی ہے۔ 
لہذا اب صرف حکومت اور عوام کو یہ طے کر لینا چاہیے کہ جب تخمینہ کے مطابق اموات حاصل ہو جائیں گی تو یہ اموات اور اس سے متعلق غفلت کسی کے سر ڈالی جائے گی۔ کمیٹی کتنے افراد پر مشتمل ہوگی اور لواحقین کو کتنے کا چیک دیا جائے گا۔ اور فرنٹ لائن ورکرز کو کس انعام کا مستحق ٹھہرایا جائے گا ۔ اور کیا اس وبا سے مرنے والوں کو شمہید قرار دیا جائے گا؟؟؟ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کردار سازی اور ہماری قوم

ہمیں کسی بے ایمان کی تلاش ہے۔