ہمیں کسی بے ایمان کی تلاش ہے۔
ایسا ممکن ہے کہ ہم بحیثت قوم حد سے زیادہ ایمان دار ہوں اور دوسرے اپنی بد دیانیتی کی وجہ سے ہمیں مشکوک اور بد کردار تصور کرتے ہوں۔ لیکن ہمیں اس سے کیا لینا دینا ؟ ہم دوسروں کی سوچ کے ذمہ دار تھوڑی ہیں اور نا ہم نے سب کی اصلاح کا ٹھیکہ اُٹھا رکھا ہے۔
اب یہ تو کاروبار کا اُصول ہے کے جب چیز کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ بھڑ جاتی ہے تو اُسکی قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہی معاملہ کررونا وائرس کے بعد ہمارے یہاں بھی دیکھنے میں آیا۔ اب اس میں تو کسی مافیا کا ہاتھ نہیں کہ ماسک کے پیچھے ایک ساتھ ساری قوم پڑ گئی جسیے ماسک پہننا کوئی اہم اسلامی رکن بن گیا ہوں ۔ بھائی تھوڑا صبر ہی کرلیتا ہے بندہ ۔پھر سینیٹائیزر کا بحران آگیا ، یکدم تو ایسا لگا کی ساری قوم نے ایک ساتھ ہی ہاتھ دھونے کا ارادہ کر لیا ہے۔ کسی چیز کے ایسے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ نا چاہتے ہوئے بھی قیمت بڑھانی پڑ جاتی ہے۔
اس سے پہلے یہی رویہ چینی اور آٹے کے بحران میں نظر آیا ۔ لوگوں نے ضرورت سے زیادہ آٹا خرید کر مارکیٹ سے آٹا غائب کر دیا اور پھر خود ہی افواہ اُڑا دی کے آٹا نہیں مل رہا۔
بالکل یہی رویہ ابھی کررونا وائرس سے متعلق کچھ چیزوں میں اختیار کیا گیا جسیے سنا مکی اور انجیکشن ایکٹمرا اور دوسری اشیاء ۔ عوام ضرورت سے زیادہ اور بہیت زیادہ جب چیزوں کی خریداری کرکے خود کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ناصرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی نقصان کرتےہیں اور بعد میں مافیا پر ڈال کر اور کچھ گالیاں نکال کردل ہلکہ کر لیتے ہیں۔
جہاں تک میرا خیال ہے ہماری عوام کو روز کچھ نہ کچھ نیا کرنے کو چاہیے ہوتا ہے۔ روز عوام کو کوئی نئی خبر کوئی نئی بات کوئی نیا حادثہ یا واقعہ جس پر بحث کر کے وقت گزاری کی جاسکے۔ اور اگر واقعہ یا خبر نہیں دیں گے تو ساری عوام وائرس کا
علاج ڈھونڈنے اور اس وائرس کے پیچھے یہودی سازش کو بے نقاب کرنے اور بجٹ 2020 پر سیر حاصل گفتگو کرنے لگتی ہے۔
ایسے ایسے اعداد و شمار اورسازشیں ڈھونڈ کر نکال لاتی ہے کہ حکمران اور دوسری قومیں بھی منہ میں اُنگلی ڈال کر ورطہ
حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ یار یہ تو ہمارے ذہن میں بھی نہیں آیا تھا۔
اب آجکل ہماری عوام پلازمہ کے پیچھے پڑ گئی ہے باقاعدہ میسجز کہ ذریعہ پلازمہ کی خرید و فروخت کی جاری ہے پانچ سے چھ لاکھ تک تو قیمت پہنچا دی ہے اب اللہ رحم کرے ہم پر آگے نا جانے مزید کیا کیا کرے گی ہماری عوام۔
اچھی بات یہ ہے کے کوئی شرمندگی اور ضمیر کی ملامت والا معاملہ اب دیکھنے میں نہیں آتا ۔ ہر شخص اپنے اپنے طور پر حالات کے دھارے کو دیکھتے ہوئے اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتا ہے۔ یہ بھی اچھا ہو گیا ہے کہ احساس والا معاملہ بھی نہیں رہا عوام میں حقیت پسندی بھر گئی ہے کوئی مرتا ہے تو مر جائے آخر موت کا تو ایک دن معین ہی ہے ، لہذا کاروبار یا لوٹ مار یا منافع خوری سے کوئی پرہیز نہیں کرنا ۔
لیکن لوٹ کے مال سے صدقہ کر کے اللہ سے جان و مال کا تحفظ ضرور مانگتے رہیں ! کہ اللہ ایک دن ہمیں ضرور ساری دنیا کے لئے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ بنا دے گا۔ اور انساینت کی خدمت کرنے والے دوسرے عیسائی اور یہودی ممالک کی تباہی بھی ہر دُعا میں مانگتے رہیں ، اب تک قبول نا ہونے والی دُعائیں ہو سکتا ہے اب قبول ہوجائیں۔
اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں