کردار سازی اور ہماری قوم
تعصب کی فضا میں طعنہ کردار کیا دیتا۔ منافق دوستوں کے ہاتھ میں تلوار ا بھی منزل کا تعین نہیں ہوا تھا کہ ہم قوم پرستی، لسانی مسائل اور مخلتف مذہبی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ وقت کیساتھ ساتھ یہ تقسیم ناصرف مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی بلکہ اس کی گہرائی میں بھی وقتی لُٹیروں اور سیاسی شعبدہ بازوں نے بھر پور کردار ادا کیا ، اس پر ستم ظریفی کہ مذہب کا علم رکھنے والے حضرات بھی اس کشتی کو کنارے پر نا لا سکے بلکہ جتنے چھید وہ اس کشتی میں کر سکتے تھے حسب استطاعت کئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا جو وقت قومی کردار سازی کا تھا ، وہ آپس کے جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اب قوم اس نہج پر پہنچ گئی ہے ، جہاں انصاف ، انسانیت ، مذہبی رواداری ، قومی ہم آہنگی ، قومی کردار ، سچائی اور اخلاقیات جیسی باتیں ناممکنات میں سے ایک نظر آتی ہیں۔ ساری قوم مسیحا کی منتظر ہے جو دنوں میں ملک اور قوم کے حالات بدل دے ، لیکن قوم اپنے اندر موجود زہریلے طور طریقے اور منفی کردار کو بدلنے پر تیار نہیں۔۔۔۔۔ ہر بحران کی ذمہ داری کسی نا کسی پر ڈال کر بری الذمہ ہونا قوم اور قوم کے حکمرانوں نے احسن طریق سے سیکھ لیا ہے پچھلی سات دیائیوں سے خود...